Image default
دنیا

خوشی کی تسخیر | قسط اوّل

دیباچہ
یہ کتاب ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو کہ عالم ہیں، اور نہ ہی ان لوگوں کیلئے جو عمل کی بجائے صرف باتیں کرتے ہیں۔ یہ کتاب ان لوگوں کیلئے نہیں ہے جو کہ کافی علم رکھتے ہیں اور نہ ہی ان لوگوں کیلئے جو کہ بجائے عمل کے محض باتیں ہی کرتے ہیں۔ آنے والے صفحات میں نہ تو کوئی گہری فلاسفی ہے اور نہ ہی کوئی عالمانہ باتیں۔میرا مقصد صرف ان باتوں کو اکٹھا کرنا ہے جن کے بارے میں مجھے امید ہے کہ وہ عام فہم ہیں۔اور وہ ساری ترکیبیں جو کہ میں قارئین کو بتا رہا ہوں، وہ سب میرے تجربے اور مشاہدے سے گزر چکی ہیں۔ اورجب کبھی بھی میں نے ان پر عمل کیا، انہوں نے میری خوشی میں اضافہ کیا ہے۔اسی بنیاد پر میں امید کرسکتا ہوں کہ وہ لاتعداد مرد اور عورتیں جو اداسی میں مبتلا ہیں (اس سے لطف اٹھائے بغیر)، اُنکی اس حالت کی تشخیص ہو سکتی ہے اور وہ اس سے نجات کا راستہ پا سکتے ہیں۔یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو دُکھی ہیں، اس کتاب میں دی گئی صحیح سمت کی ہدایات کے مطابق عمل کر کے خوش ہو سکتے ہیں۔

حصہ اوّل:  اداسی کی وجوہات
باب اوّل:  لوگ اداس کیسے ہوتے ہیں؟

جانور خوش رہتے ہیں جب تک انکے پاس صحت اور کھانے کی فراوانی رہے۔اس حساب سے انسان کو بھی خوش ہونا چاہئے، موجودہ زمانے میں زیادہ تر لوگوں کو خوش ہونا چاہئے مگر وہ خوش نہیں ہیں۔اگر آپ بھی ناخوش(اداس)ہیں تو شاید آپ یہ ماننے کیلئے تیار ہوں گے کہ آپ بھی ان سے الگ نہیں ہیں۔اگر آپ خوش ہیں تو اپنے آپ سے پوچھیں کہ آپکے کتنے دوست خوش ہیں۔اور جب آپ اپنے دوستوں پر نظر ڈال چکیں تو چہرہ پڑھنے کا فن سیکھیں۔اپنے آپکو اس قابل بنائیں کہ جن لوگوں کو آپ روز ملتے ہیں، انکے تاثرات کو جان سکیں۔جیسا کہ بلیک کہتا ہے،  ”ہر چہرہ جس سے میں ملتا ہوں اُس پر آثار ہیں۔ بے بسی کے آثار،دُکھ کے آثار“

Leave a Comment